اشاعتیں

دسمبر, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ایچ پائلوری

تصویر
ایچ پائلوری ایچ پائلوری ایک گرام نیگیٹو بیکٹیریا ہے جو معدے میں پایا جاتا ہے۔ یہ بیکٹیریا معدے کی سوزش کا باعث بنتا ہے۔ ایچ پائلوری کی علامات ایچ پائلوری پازیٹو ہونے کی وجہ سے پیٹ کی سوزش سمیت کئی علامات ہو سکتی ہیں، جیسا کہ:- سینے کی جلن متلی قے چڑچڑاپن پورے پیٹ میں یا پیٹ کے اوپر حصہ (معدہ کے مقام) میں درد معدہ کے مقام پر آر پار یعنی پیٹ سے کمر تک درد رات کو سوتے ہوئے رال کا ٹپکنا بھوک نہ لگنا کمزوری وزن کم ہونا خون کی قے کالے پاخانے: دو یا دو سے زیادہ بار (بالخصوص کالا) پاخانہ تشخیص:- ایچ پائلوری کے انفیکشن کی تشخیص خون کے ٹیسٹ، پاخانہ کے ٹیسٹ یا اینڈوسکوپی کے ذریعے بائیوپسی لینے سے کی جا سکتی ہے۔ ایچ پائلوری سے بچاؤ: - ایچ پائلوری سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:- اچھی طرح سے پکایا ہوا کھانا کھائیں۔ صاف ستھرا پانی پیئیں۔ اچھی طرح سے ہاتھ دھوئیں۔ اپنے دانتوں کو صاف رکھیں۔ فاسٹ فوڈ اور باسی کھانوں سے پرہیز۔ پیچیدگیاں :- ایچ پائلوری کے انفیکشن کا علاج کرنے سے پیٹ کی سوزش سمیت تمام مسائل کو دور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اگر وقت پر علاج نہیں کیا جاتا تو ...

کالی کھانسی

تصویر
 کالی کھانسی {Whooping Cough} کھانسی کی ایک ایسی قسم جس میں مریض کو بار بار کھانسی ہوتی ہے جوکہ بعد میں دورے کی سی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے، مریض کو جب اندر کی طرف لمبا سانس لینے کا کہا جائے تو سینے سے ایک خاص کی گڑگڑاہٹ قسم آواز آتی ہے جسے ہوپ "Whoop" کہا جاتا ہے، اسی لفظ "Whoop" کی وجہ سے اسے "Whooping Cough" کہا جاتا ہے۔ وجوہات:- موسم سرما کے آخر اور موسم بہار کے ابتداء میں عام نزلہ زکام اور کھانسی سے شروع ہونے والی  کھانسی آہستہ آہستہ کالی کھانسی (Whooping Cough) کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کھانسی 7 سے 17 دن تک ایک بیکٹیریل مرض کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس کی وجہ بارڈیٹیلا پریٹوسس "Bordetella pertussis" بیکٹیریا ہوتا ہے۔ یہ بیکٹیریا ایک مریض کے تھوکنے، کھانسنے اور چھینکنے کیوجہ سے ہوا میں پھیل کر دوسرے لوگوں خاص کر چھوٹے بچوں کو مرض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کالی کھانسی زیادہ تر 5 سال سے کم عمر بچوں میں خطرناک صورت اختیار کر جاتی ہے۔ اگر کالی کھانسی کا بروقت علاج نا کیا جائے تو نمونیا، پھیپھڑوں کا پھیل جانا، دماغی جھلیوں کی سوزش اور زیادہ الٹیاں ہو...

موسمِ سرما اور احتیاطی تدابیر

تصویر
 موسمِ سرما اور احتیاطی تدابیر  جیسے جیسے سردی کا موسم قریب آتا ہے، مردوں عورتوں خاص کر کھلی فضا میں کام کرنے والے اور ننھے منے پھول جیسے بچے زیادہ سردی لگنے سے مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ بچوں کا مدافعتی نظام اتنا مضبوط نہیں ہوتا، اس لیے وہ تھوڑی سی بد احتیاطی سے بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سردیوں میں ناک بہنا، زکام، کھانسی، بخار، سانس کا تیز چلنا عام علامات ہیں۔ ان سب پر مناسب توجہ سے آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ ان حالتوں میں زیادہ تر سانس کے نظام کا اوپر والا حصہ متاثر ہوتا ہے۔ یہ عموماً وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ سردی کیوجہ سے آب و ہوا میں نمی ہوتی ہے جس کی وجہ وائرس بہت جلد ایک سے دوسرے میں منتقل ہو جاتا ہے لیکن کوئی اور بیکٹیریا بھی انفیکشن کرسکتا ہے اور مناسب توجہ نا دینے کی وجہ سے نمونیہ اور ٹی بی جیسے موذی مرض بھی ہوسکتے ہیں جس سے بہت زیادہ مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں خاص کر بچے ان تمام مسائل کا بہت جلد شکار ہو جاتےہیں اس لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ احتیاطی تدابیر نظام تنفس کے اوپر کے حصہ کی بیماریاں جنہیں (URTI) بھی کہتے ہیں یا تو وائرس کی وج...