موسمِ گرما اور صحت

 موسمِ گرما اور صحت



ویسے تو موسمِ گرما 15 مارچ سے 15 ستمبر تک چلتا ہے مگر خصوصاً مئی سے آگست تک غیر معمولی حد تک درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ہمارے جسم پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جو کہ صحت کے مختلف مسائل کا سبب بن سکتے ہیں، جوکہ بعض اوقات جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

گرمی کیوجہ سے صحت کے متعلق کچھ مسائل درج ذیل ہیں:

ڈی ہائیڈریشن:

گرمی میں پسینے کی وجہ سے جسم سے نا صرف پانی کی کمی ہو سکتی ہے جسم میں نمکیات کی بھی کمی واقع ہو سکتی ہے جس سے تھکاوٹ، کمزوری، سر درد، گھبراہٹ اور چکر آنے کے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ پانی اور نمکیات کی کمی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ گرمیوں میں وافر مقدار میں پانی، نمکول، لیموں پانی، گڑ یا شکر کا شربت اور دیگر صحت مند مشروبات پیئے جائیں، تاکہ ممکنہ پانی کی کمی ڈی ہائیڈریشن کی صورت حال پیدا نا ہونے پائے۔

ہیٹ اسٹروک:

یہ ایک سنگین طبی حالت ہے اس وقت ہوتی ہے جب جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔ ہیٹ اسٹروک کے علامات میں تیز بخار، سر درد، متلی، اور الٹی شامل ہیں۔ اگر آپ کو ہیٹ اسٹروک کی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر سر کو ڈھانپیں، دھوپ اور تپش سے بچ کر ٹھنڈے ماحول میں جائیں اور پانی یا دیگر صحت مند مشروبات پیئیں تاکہ ہیٹ سٹروک جیسی سنگین صورتحال سے بچا جا سکے۔

ایمرجنسی کیصورت میں مقامی سطح پر قائم کردہ ہیٹ سٹروک سینٹر تشریف لے جائیں۔

جلدی عوارض:

گرمیوں میں درجہ حرارت کے نمایاں اضافہ کیوجہ سے سورج کی مضر شعاعیں جلد کے جلنے، دانے اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ سورج کی ڈائرکٹ تپش سے بچنے کے لیے سائے میں رہیں، سن اسکرین لگائیں، سر پر ٹوپی اور دھوپ کا چشمہ لگا کر رکھیں۔

بد ہضمی جیسے مسائل:

گرمیوں میں موسمی تپش کی وجہ سے ہاضمے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے جس سے قبض، اسہال، اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہاضمے کے مسائل سے بچنے کے لیے ہلکی اور صحت مند غذا بالخصوص سلاد کا استعمال کریں اور کم سے مصالحہ جات والی غذائیں کھائیں اور وافر مقدار میں پانی پیئیں۔

امراض دل کی:

گرمیوں میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ عموماً گرمی کیوجہ سے خون پتلا ہوجاتا ہے جس کے باعث دل کے امرض ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے صحت مند غذا کھائیں، باقاعدگی سے ورزش کریں، اور اپنے وزن کو کنٹرول میں رکھیں۔

سانس کے امراض:

گرمیوں میں درجہ حرارت میں اضافہ کے باعث قوتِ مدافعت کمزور ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے دمہ اور الرجی کے مریضوں میں سانس کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سانس کے مسائل سے بچنے کے لیے دھول اور دھوئیں سے دور رہیں، گھر اور کام کی جگہ کو کو صاف ستھرا رکھیں۔

بزرگوں بچوں اور مزدور طبقہ کیلئے احتیاطی تدابیر:

بچے اور بوڑھے چونکہ گرمی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، انہیں ٹھنڈے اور آرام دہ ماحول میں رکھیں، اسی طرح مزدور طبقہ جو کھلے آسمان کے نیچے سورج کی تپش میں کام کرتے ہیں وقفہ وقفہ سے  مناسب مقدار میں پانی اور مناسب درجہ حرارت کے حامل مشروبات پلائیں۔

موسم گرما ہو یا سرما اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں، صحت سے متعلق مسائل کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

تحریر:- ڈاکٹر راشد محمود ہاشمی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موسمیاتی تبدیلی اور صحت

ایچ پائلوری

رمضان المبارک اور ہماری صحت