ہومیوپیتھک طریقہ علاج
ہومیوپیتھک طریقہ علاج
ہومیوپیتھی کیا ہے.؟
ہومیوپیتھک ایک بالمثل اور ڈاکٹر و مریض یا مریض کے لواحقین کیلئے محنت طلب طریقہ علاج ہے جس کا مقصد شخصیت، طرز زندگی اور موروثی وجوہات کے ساتھ ساتھ بیماری کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے فرد کی ہر ایک جسمانی تبدیلی، جذباتی اور تکلیف کا علامات اور مزاج کے مطابق علاج کرنا ہے۔ چونکہ تمام لوگ قدرتاً منفرد ہوتے ہیں، اس لیے ہومیوپیتھک ادویات تمام افراد کیلئے منفرد تجویز کی جاتی ہیں۔ حتٰی ایک ہی گھر کے دو افراد ایک ہی طرح کے مرض میں مبتلا ہوں تو دونوں کی دوا الگ الگ ہو سکتی کیونکہ ان دونوں کی علامات تو ایک جیسی ہو سکتی ہیں مگر مزاج نہیں۔
اندازِ ہومیوپیتھی:
پہلے وقتوں میں جب لوگ معمولی بیماریوں جیسے نزلہ، زکام، کھانسی، بخار، سردرد یا گلے کی سوزش وغیرہ میں مبتلا ہوتے تھے تو دور حاضر کی طرح اینٹی بائیوٹک و سیلف میڈیکیشن کے بجائے قدرتی اجزاء کااستعمال کیا کرتے تھے۔ لوگوں کی قوت مدافعت مضبوط ہوتی تھی اور جسم بیماری کے خلاف لڑنے کیلئے طاقتور ہوتے تھے جس کے باعث وہ بہت جلد ہی تھوڑی سی حفاظتی اقدامات کر کے صحت یاب ہو جاتے تھے۔ قدرتی اجزاء کی طرح ہومیوپیتھک ادویات بھی نا صرف چھوٹی موٹی بلکہ بڑی سے بڑی بیماریوں کے لئے بھی متبادل طریقہ علاج ہے۔ کیونکہ یہ طریقہ علاج قدرتی طریقہ علاج کے بالکل قریب ترین جانا جاتا ہے۔
ہومیوپیتھک ادویات کا ایکشن:
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہومیوپیتھی کام کیسے کرتی ہے، کیونکہ اس میں ایک ہی طرح کی بنی بنائی دوائی ہر مرض کیلئے، ہر کسی کیلئے، ہر کوئی استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اینٹی بائیوٹک، دافع درد و بخار کی طرح نہیں ہوتی کہ جس کسی کو بھی درد و بخار ہو اور وہ ایک ہی ٹیبلٹ لے اور وقتی طور پر ٹھیک ہو جائے۔ اس میں مریض کی پوری ہسٹری جاننے کے بعد ہی دوا تجویز کی جاتی ہے۔
یہ نسبتاً ایک سستا مگر بہت زیادہ محنت و لگن کے ساتھ کرنے اور کرانے والا طریقہ علاج ہے جس سے ابتدائی (Acute) امراض جیسے نزلہ زکام، بخار، کھانسی سینہ و گلہ خراب، الٹی، دست، چوٹ و موچ وغیرہ، اور پُرانے امراض جیسے دمہ، ڈپریشن، بے چینی، مختلف انفیکشن، آنتوں کے امراض، زنانہ و مردانہ امراض مخصوصہ ( بے اولادی)، شوگر، بلڈ پریشر، بواسیر، چھوٹا قد، عرق النساء، گردن و مہروں کے مسائل، گردے مثانے اور پتے کی پتھریاں، ہرنیا، جگر تلی اور معدے کے مسائل کے علاج میں ہر ممکن اور ثابت قدم مدد مل سکتی ہے۔
ہومیوپیتھک طریقہ علاج کے لئے اچھے ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے بالمشافہ یا آنلائن مشاورت کریں تاکہ وہ مریض کی مکمل میڈیکل ہسٹری کے مطابق صحت کی بحالی میں معاونت کر سکے۔
جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے ہومیوپیتھک علاج میں ہرفرد کی میڈیکل ہسٹری (علامات و مزاج) کے مطابق ہی اس کاعلاج کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دو افراد جو ایک ہی جیسے مرض میں ہی کیوں نا مبتلا ہوں پھر بھی ان کی میڈیکل ہسٹری جاننے کے بعد ہی دونوں کے مختلف دوا تجویز کی جا سکتی ہے۔
ہرشخص کی خاندان کی طرف سے منتقل ہونے والے اور اس کے اندر اپنے پرورش پانے والے امراض میں اس علاج میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ مختلف اجزاء اپنا رد عمل رکھتے ہیں اسی لئے اس علاج میں مسائل کو ٹھیک طرح سے جاننے کے بعد ہی علاج تجویز کیا جاتا ہے۔
ذہنی اور جذباتی رویّے:
ہومیوپیتھک علاج اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ ذہنی اورجذباتی رویے کسی بھی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ذہنی اور جذباتی رویے ہومیوپیتھک علاج میں بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جسمانی علامات کے ساتھ ساتھ رویوں کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ہرشخص کا عمل و رد عمل مختلف ہوتا ہے اسی لئے اس علاج میں جسمانی کیفیات کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جذباتی سطح کو بھی مدنظر کھا جاتا ہے تا کہ کسی بھی قسم کے منفی رد عمل سے بچا جا سکے۔
ہومیوپیتھک ادویات کی تیاری:
ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں مستعمل ادویات میں قدرتی اجزاء استعمال کئے جاتے ہیں کیونکہ ہومیوپیتھی کا مقصد کسی بھی سائیڈ افیکٹ کے بغیر محفوظ طریقے سے نا صرف امراض بلکہ رویوں کا علاج کرنا ہوتا ہے۔ اسی لئے قدرتی اجزاء کے ملاپ پر بھر پور توجہ دی جاتی ہے۔ ان اجزاء میں تازہ اور خشک جڑی بوٹیاں، سرکہ، لہسن، کیفین، ایکٹیویٹڈ چارکول اور مختلف پوائزنز وغیرہ مشتمل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علاج میں مکمل میڈیکل ہسٹری کو مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ کسی بھی منفی اثرات کا سامنا نا کرنا پڑجائے۔
ہومیوپیتھک طریقہ علاج کے اثرات و بد اثرات:
ہومیوپیتھک ادویات خاص کر الکوحل سے الرجی اور دیگر ضمنی اثرات کے بارے میں جان کر ہی مریض کو متوازن خوراک دی جاتی ہے۔ کیونکہ ہومیوپیتھک ادویات کو جو کہ قدرتی اجزاء سے تیار شدہ ہوتی ہیں کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے کیلئے اس سے بہتر ذریعہ اور کوئی نہیں۔
کارکردگی:
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہومیوپیتھک ادویات بہت سست کام کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان ان ادویات میں کوئی بھی انسان کی بنائی ہوئی دوا شامل نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ مزمن (پرانے) امراض سے مکمل صحت یاب نے میں تھوڑا سا وقت لگتا ہے مگر دوائی کی مخصوص طاقت کی دہرائی سے تکلیف بہت جلد بہتر ہو سکتی ہے جبکہ حاد (نئے) امراض میں دوسرے طریقہ کی نسبت جلد فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ دوسرے طریقہ علاج کی دوا کی دہرائی کا وقت زیادہ ہوتا ہے جبکہ ہومیوپیتھک کی مخصوص طاقت کی ادویات تکلیف کی شدت کے حساب سے تکلیف بہتر ہونے تک بہت جلدی جلدی دہرائی جا سکتی ہیں۔
انفیکشنز اور ہومیوپیتھی:
ہومیوپیتھک دمہ، سینہ و گلے کے انفیکشن اور دیگر بہت سی انفیکشنز کا بخوبی علاج کرنے میں کارآمد مانا جاتا ہے کیونکہ اس سے مریض کی قوتِ مدافعت مضبوط ہو جاتی ہے۔ تجربات کے مطابق اسی فیصد مریضوں میں ان ادویات کے استعمال کے بعد بیماری کی علامات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ جاتی ہے۔ ہومیوپیتھک کی چھوٹی سی خوراکیں ان بیماریوں سے دفاع میں گہرا اثر رکھتی ہیں جس کی وجہ سے اس طریقہ علا ج میں مختلف قسم کے انفیکشن کا علاج بآسانی کیا جاسکتا ہے۔
درد، عمل جراہی (سرجری) اور ہومیوپیتھی:
مزمن (پرانے) درد جیسے کندھوں، جوڑوں، پٹھوں، عرق النساء اور کمر کا درد اس علاج سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس علاج کے ذریعے جراہی عمل کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے جس سے آگے جا کر منفی اثرات رونما ہونے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اس لیے تمام عوام الناس سے التماس کی جاتی ہے بے جا جراہی عمل (سرجری) سے ہر ممکن بچنے کیلئے ایک بار اچھے ہومیوپیتھ سے مشاورت ضرور کریں اور شفاء دینے والی ربُّ العالمین کی زاتِ با برکات سے شفاء کے اور ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے دستِ شفا مطلوب ہو کر دوا استعمال کریں۔ اس طریقہ علاج کا سب سے بہترین اور بنیادی فائدہ یہ ہے کہ یہ جسم سے بیماری کو مکمل طور پرختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ساتھ ہی بیماری کے دوبارہ ہونے کے خطرات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔
نتائج میں وقت لگنے کی وجہ:
ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں وقت لگنے کو بہت لوگ خامی جانتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر امراض خاندانوں سے چلے آ رہے ہوتے ہیں جنہیں بہت لوگ خاندانی امراض کے نام سے بھی جانتے ہیں اور ہومیوپیتھی کی رو سے ہر مرض کے پیچھے ایک یا ایک سے زیادہ میازم ہوتے ہیں، میازم خاندان سے منتقل ہو سکتا ہے اور مریض میں بذاتِ خود بھی پرورش پا کر صحت مند کو بیمار کر سکتا ہے ۔
اور جب مریض ہومیوپیتھ کے پاس جاتا ہے تو ہومیوپیتھک ڈاکٹر سب سے پہلے مریض کا میازم تلاش کرتا ہے تاکہ روٹ لیول سے مرض پر قابو پایا جا سکے، جس کیلئے مریض کو اینٹی میازمٹک، پھر مزاجی اور پھر مرض کی آئینی (constitutional) تلاش کر کے مریض کی صحت کو بحال کرنے کا بیڑا اٹھایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے مرض کی بہتری میں کچھ وقت لگ جاتا ہے جس کے باعث اکثر مریض مایوسی کاشکار ہونے لگتے ہیں، لہذا مریضوں کو ان تمام معاملات سے آگاہی ضروری ہے تاکہ اپنا مکمل اور صحیح معنوں میں علاج کروا کر صحت مند زندگی گزار سکیں۔ یہ حقیقت بھی مسّلم ہے کہ قدرتی اجزاء کے استعمال کی بدولت بیماریوں سے لڑنے اور صحت کے فروغ میں وقت درکار ہوتا ہے۔ اس دوران مریض کو کمزوری اور تھکاوٹ کاسامنا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ بیماریوں سے لڑنے کے لئے جسم کواضافی توانائی کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ اس علاج میں دوا کی مناسب مقدار دی جاتی ہے تاکہ جسم کا اندرونی توازن خراب نہ ہو اور مریض صحت یاب ہو جائے۔
تحریر و ترتیب: ہومیوپیتھک ڈاکٹر راشد محمود ہاشمی

ایک بہترین طریقہ علاج جو بہت سارے نا امید مریضوں کیلئے امید کی کرن ثابت ہوا
جواب دیںحذف کریں