موسمیاتی تبدیلی اور صحت
موسمیاتی تبدیلی اور صحت
آجکل موسمیاتی تبدیلی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہماری صحت کے لیے بھی ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ زمین کا غیر متوازن درجہ حرارت گرمیوں میں شدید گرمی سردیوں شدید سردی، مون سون میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال، غیر متوقع موسمی واقعات اور آلودگی کی وجہ سے ہماری صحت بے جد متاثر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے نا صرف بچے بلکہ جوان و بزرگ حضرات بھی مختلف موسمی بیماریوں کاشکار ہو رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی ہماری صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
گرمی کی لہریں:
گرمیوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت گرمی کی لہروں کا سبب بنتے ہیں جس کی سے سانس کی بیماریوں، دل کے دورے، ہیٹ اسٹروک اور پسینے کی زیادتی کی وجہ سے ڈی ہائیڈریشن جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سردی کی لہریں:
سردیوں میں پاکستان کے بیشتر علاقے ایسے بھی ہیں جہاں سردیوں میں درجہ حرارت منفی ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے اور بیشتر علاقوں میں سموگ جیسی صورتحال کے پیشِ نظر بخار، گلے اور سینے کے امراض سمیت مختلف امراض لاحق ہو جاتے ہیں
پانی سے پھیلنے والی بیماریاں:
مون سون کے موسم میں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں پانی آلودہ ہو جاتا ہے جس سے پھیلاؤ والے امراض جیسے ہیضہ، ٹائیفائڈ اور ہیپاٹائٹس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
حشرات کی افزائش اور بیماریاں:
مون سون کے موسم میں بارشوں اور سیلاب کے پانی، گرم اور نم ماحول میں مکھیوں مچھروں اور دیگر حشرات کی افزائش کے لیے سازگار ہوتا ہے جس سے ملیریا، ڈینگی اور پیٹ کے امراض میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
الرجی اور سانس کی بیماریاں:
ہوا میں آلودگی کی سطح میں اضافہ الرجی، دمہ اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ کر دیتا ہے۔
ذہنی صحت کے مسائل:
موسمیاتی تبدیلی سے متعلق واقعات جیسے سیلاب، خشک سالی، بے پناہ آندھیاں و طوفان اور آسمانی بجلی کے باعث جنگلات و علاقوں کی آگ کیوجہ سے ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں اور اضطراب، ڈپریشن او اسٹریس جیسے مسائل کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔
غذائی قلت:
موسمیاتی تبدیلی سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے جس سے نا صرف غذائی اجناس بلکہ پھل اور سبزیوں کی پیداواری قلت کے باعث غذائی قلت اور غذائی اجزا کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
نقل مکانی:
شدید موسمی واقعات لوگوں کو بے گھر کر دیتے ہیں بالخصوص شدید گرمیوں کے موسم میں گرم علاقوں، شدید سردیوں میں سرد علاقوں بارش اور سیلاب کے باعث دریائی علاقوں سے سے لوگ دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں عارضی رہائش گاہوں کی وجہ سے سہولیات کے فقدان کے باعث صحت سے متعلق بنیادی سہولیات تک رسائی میں دشوار ہوتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟
کاربن کے اخراج میں کمی:
انجن گاڑیوں میں تیل (پٹرول و ڈیزل) کے استعمال کو کم سے کم کر کے صاف توانائی کے ذرائع کو اپنا کر کاربن کے اخراج میں کمی کی جا سکتی ہے۔
پائیدار زراعت:
پائیدار زراعت کے طریقوں کو اپنا کر فصلوں کی پیداوار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور خشک سالی اور سیلاب کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
علاقائی پانی کو جمع کرنے کے ذرائع:
سرکاری و نجی ذرائع سے تمام چھوٹے بڑے شہروں و آبادکار علاقوں کی آبادی کو مدِنظر رکھتے ہوئے چھوٹے بڑے ڈیم بنانے کی اشد ضرورت ہے جہاں نا صرف شہری آبادیوں سے بلکہ قریبی سیلاب زدہ علاقوں سے بھی پانی کو جمع کیا جا سکے۔
جنگلات کی بحالی:
جنگلات کی تباہی کو روک کر اور نئے جنگلات لگانے سے نا صرف موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ سیلاب سے زمینوں کے کٹاؤ کو بھی مناسب حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
صحت کی خدمات کو بہتر بنانا:
سرکاری و فلاحی ادارے بڑے بڑے شہروں میں صحت کی سہولیات سے عوام کو فیض یاب کر رہے ہیں اچھی بات ہے مگر جس طرح بڑے شہروں میں انسان رہتے ہیں بالکل اسی طرح چھوٹے شہروں، گاؤں اور دیہاتوں میں بھی انسان ہی رہتے ہیں ان کیلئے نا صرف موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بیماریوں سے نمٹنے کے لیے صحت کی خدمات کو بہتر بنانا ضروری ہے بلکہ عمومی طور پر بھی صحت کی بنیادی سہولیات کی خدمات بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے
نوٹ: موسمیاتی تبدیلی صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے اثرات ہر ایک کو اور ہر جگہ متاثر کر رہے ہیں۔ ہمیں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جس کیلئے نا صرف گورنمنٹ یا فلاحی ادارے بلکہ ہر فرد و ادارہ اپنی سطح اور استطاعت کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور ان پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر سکتا ہے اور معاشرتی طور پر صحت مند اور پائیدار مستقبل کے لیے کام کر سکتا ہے۔
تحریر: ڈاکٹر راشد محمود ہاشمی (رحیم یار خان)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں