رمضان المبارک اور ہماری صحت
ایک ایسا مہینہ جس میں ہم بطور مسلمان صبح صادق سے غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ روزہ رکھنا نا صرف روحانی بلکہ صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔
کچھ فوائد جو روزہ رکھنے سے حاصل ہوتے ہیں:
زیادہ وزن کا کنٹرول:
زیادہ وزن کیوجہ سے پریشان افراد کیلئے رمضان المبارک اضافی نعمت کے طور پر ثابت ہوتا ہے کیونکہ کم و بیش 10 سے 12 گھنٹے تک خالی پیٹ رہنے (روزہ رکھنے) سے جسم میں موجود اضافی چربی پگھلنے لگ جاتی ہے اور وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، انسان نا صرف رمضان المبارک میں بلکہ باقی ایام میں بھی متوازن غذا اور بھوک رکھ کر کھانے کی عادت اپنا لے تو زیادہ وزن سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
کم وزن کو بڑھانا:
زیادہ تر لوگ جن کا ہمیشہ شکوہ رہتا ہے کہ سب کچھ کھا لینے کے باوجود بھی ہمارا وزن کم رہتا ہے، بڑھنے کا نام ہی نہیں لیتا تو رمضان المبارک میں سحر و افطار میں اگر صحیح معنوں میں معتدل غذا کھا پی کر روزے گزارے جائیں تو چونکہ دن کا وقت روزے کی حالت ميں گزرتا ہے تو اس کی وجہ سے غیر معیاری اور صحت دشمن اشیا کھانے سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے جس کی وجہ اچھی غذا جزوِ بدن ہو کر انسان کو بہترین و صحت مند جسامت کے حصول کیلئے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
بلڈ شوگر کے مرض کا کنٹرول:
روزہ رکھنے سے خون میں شوگر کی سطح میں معتدل ہو جاتی ہے اور ذیابیطس جیسے خاموش قاتل مرض کے اضافی خطرے میں کمی واقع ہوتی ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کا کنٹرول:
چونکہ روزہ رکھنے سے دن کا زیادہ تر حصہ کچھ بھی کھائے پیئے بغیر گزرتا تو اس کی وجہ سے بلڈ پریشر کی سطح میں کمی واقع ہوتی ہے اور دل کی بیماریوں کے خطرے میں کمی واقع ہوتی ہے۔
کولیسٹرول کی سطح میں کمی:
روزے میں اللّٰه کریم نے ایسی طاقت رکھی ہے کہ بیشتر مہلک امراض تھوڑی سی احتیاط اور برداشت سے کنٹرول ہو سکتے ہیں ان میں ایک مرض کولیسٹرول بھی ہے جس کو اگر کنٹرول کرنا چاہیں تو رمضان المبارک میں معتدل غذا و خوراک سے روزہ رکھ کر خون میں سے کولیسٹرول کی سطح میں کمی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے جس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔
بہترین ہاضمہ و صحت مند زندگی:
روزہ رکھنے سے معدہ کافی وقت تک خالی رہتا ہے اور سحر و افطار میں کھائی ہوئی غذا کو ہضم کرنے کیلئے مناسب وقت میسر ہوتا ہے جس کی وجہ ہاضمہ صلاحیت میں بہتری آتی ہے اور قبض، پیٹ کی خرابی (الٹی، متلی، گیس، غبار، دست) اور دیگر ہاضمے کے مسائل سے چھٹکار چھٹکارا ممکن ہوتا ہے۔
مضبوط قوت مدافعت:
اللّٰه کے حضور عبادت کی غرض سے جب ہم دن کا بیشتر حصہ روزہ میں گزارتے ہیں تو نظامِ قدرت کے تحت ہم میں کافی دیر تک صبر و تحمل سے خالی پیٹ اللّٰه ربُ العزّت کی عبادت میں وقت گزارتے ہیں تو روحانی تسکین ہماری قوت مدافعت کو مضبوط سے مضبوط تر کر رہی ہوتی ہے اور پھر سحر و افطار میں معتدل غذا استعمال کر رہے ہوتے تاکہ روزہ کے دوران کسی قسم کی پیچیدگی سے بچ سکیں، جس کی وجہ سے کئی امراض و مسائل سے لڑنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
دماغ کی صحت:
چونکہ ہمارا ایمان ہے کہ ہم روزہ اللّٰه کی رضا کیلئے رکھتے ہیں اور روزہ کی حالت میں کریم ربّ کی رضا کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تلاوتِ کلام الٰہی اور اللّٰه اور اس کے پیارے حبیبﷺ کا ذکر جاری رکھتے ہیں جس کی روحانیت و جذبہ کی وجہ سے دماغ کی صحت میں نا صرف بہتری آتی ہے بلکہ یادداشت، توجہ اور برداشت میں بھی غیر یقینی اضافہ ہوتا ہے۔
جلد کی صحت:
جس طرح بطورِ مسلمان ہم پر 5 وقت کی نماز فرض ہیں بالکل اسی طرح ماہِ رمضان المبارک کے روزے بھی ہم پر فرض ہیں، عام دنوں میں ہم نماز کی کوتاہی کر لیتے ہیں (جو کہ ہر گز نہیں کرنی چاہیے) مگر روزہ کی حالت میں ہر مسلمان نا صرف 5 وقت کی نماز بلکہ صلاۃ تہجد بھی باقائدگی سے ادا کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہماری جلد میں قدرتی نکھار شامل ہو جاتا ہے اور روزہ رکھنے سے جلد کی صحت میں بھی بہتری آتی ہے اور جھریوں اور دیگر جلد کے مسائل سے نجات ملتی ہے۔
مگر یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ جس طرح روزہ رکھنے کے بہت سارے فوائد ہیں اسی طرح روزہ رکھنے سے صحت کے کچھ نقصانات بھی ہم بذاتِ خود مول لے رہے ہوتے ہیں، خاص طور پر اگر روزہ صحیح معنوں میں نا رکھا جائے دورانِ سحری و افطاری حفظان صحت کے اصولوں کو جھٹلا کر بد پرہیزی و غیر صحتمند خوراک اپنی غذا میں شامل کر لیتے ہیں یا بہت ہی قلیل غذا اور نیند لے رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں نا صرف روزہ کی حالت میں مشکلات پیش آتی ہیں بلکہ بہت سارے امراض کو ہم اپنے صحت مند جسم کا راستہ دکھا رہے ہوتے ہیں۔
سحر و افطار میں مناسب غذا نا کرنے سے مندرج ذیل ممکنہ نقصانات ہو سکتے ہیں:
پانی کی کمی:
دن میں جب ہم روزہ کی حالت میں ہوتے ہیں تو یقیناً جس طرح کچھ کھا نہیں سکتے بالکل اسی طرح کچھ بھی پینا منع ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے، جس سے تھکاوٹ، کمزوری اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، لہذا ہمیں چاہیے افطار سے لے کر وقتِ سحر تک پانی کی کمی کو پورا کر لیں تاکہ کسی بھی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ بالخصوص افطار میں کسی سافٹ ڈرنک وغیرہ کے بجائے سادہ پانی، نمکول، لیموں پانی، گڑ کا شربت اور سادہ غذائیں لیں تاکہ پورا دن خالی پیٹ رہنے کے بعد شام میں لی جانے والی تمام غذائیں بجائے نقصان دہ ثابت ہونے کے جزوِ بدن بن سکیں۔
نمکیات کی کمی:
جس طرح ہمیں معلوم ہے کہ دن بھر روزہ کی حالت میں رہنے کی وجہ سے کچھ بھی کھا پی نہیں سکتے تو شام میں افطار کے بعد مناسب نمکیات والی چیزیں لینی چاہیئں تاکہ نمکیات کی کمی کے باعث ہونے والے سر درد، چکر آنے اور دیگر مسائل سے ہر ممکن خود محفوظ رکھا جا سکے۔
بلڈ شوگر میں کمی:
رمضان المبارک میں شوگر کے مرض میں مبتلا مریضوں کو چاہئے اپنے معالج کی مشاورت سے اپنی غذا و دوا کا مناسب خیال رکھیں تاکہ روزہ رکھنے سے بلڈ شوگر کی سطح میں کمی واقع نا ہو سکے، جس سے کمزوری، سر کا چکرانا اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ لہذا اپنی مناسب غذا اور دوا کے ساتھ روزے اور عبادات کی لذتوں سے مستفید ہونے کیلئے معالج کی ہدایات پر عمل کریں۔
رمضان المبارک میں اپنی عبادات کی بھر پور لذتوں اور روحانیت سے مستفید ہونے اور کسی بھی ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے مندج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
√-سحری اور افطاری میں حفظانِ صحت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صحت مند غذا کھائیں۔
√-روزہ رکھنے کیلئے سحری و افطاری میں اور افطار سے سحر تک مناسب مقدار میں پانی اور دیگر صحت مند مشروبات پیئیں تاکہ روزہ کی حالت میں کسی بھی غذائی کمی نا ہونے پائے۔
√-اپنی صحت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رات کو مناسب نیند لیں اور دن میں زیادہ محنت طلب کاموں سے گریز کریں۔
ایک التجاء:
تمام وہ لوگ جو اپنے ملازمین سے مزدوری اور زور آور کام لیتے ہیں ان کو چاہیے اللّٰہ کی رضا و خوشنودی کیلئے رمضان المبارک میں لوگوں کیلئےآسانیاں پیدا کریں تاکہ لوگ اللّٰہ کی عبادت صحیح معنوں میں کرسکیں۔
خاص کر حاملہ خواتین، بچے، بزرگ اور پیچیدہ امراض میں گھرے ہوئے لوگوں کو چاہیے، اگر آپ کو کسی قسم کا کوئی طبی مسئلہ ہے تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ آیا آپ کے لیے روزہ رکھنا محفوظ ہے یا نہیں۔
رمضان المبارک ایک بہترین موقع ہے کہ آپ اپنی صحت کو بحال کریں۔ بہتر روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ صحت مند غذا کھائیں وافر مقدار میں پانی پیئیں اور آرام کریں اس سے آپ اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں اور رمضان المبارک کے روحانی فوائد سے بھی بہرہ اندوز ہو سکتے ہیں۔
تحریر: ڈاکٹر راشد محمود ہاشمی
رحیم یار خان
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں