اشاعتیں

موسمیاتی تبدیلی اور صحت

 موسمیاتی تبدیلی اور صحت آجکل موسمیاتی تبدیلی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہماری صحت کے لیے بھی ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ زمین کا غیر متوازن درجہ حرارت گرمیوں میں شدید گرمی سردیوں شدید سردی، مون سون میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال، غیر متوقع موسمی واقعات اور آلودگی کی وجہ سے ہماری صحت بے جد متاثر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے نا صرف بچے بلکہ جوان و بزرگ حضرات بھی مختلف موسمی بیماریوں کاشکار ہو رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی ہماری صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ گرمی کی لہریں: گرمیوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت گرمی کی لہروں کا سبب بنتے ہیں جس کی سے سانس کی بیماریوں، دل کے دورے، ہیٹ اسٹروک اور  پسینے کی زیادتی کی وجہ سے ڈی ہائیڈریشن جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سردی کی لہریں: سردیوں میں پاکستان کے بیشتر علاقے ایسے بھی ہیں جہاں سردیوں میں درجہ حرارت منفی ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے اور بیشتر علاقوں میں سموگ جیسی صورتحال کے پیشِ نظر بخار، گلے اور سینے کے امراض سمیت مختلف امراض لاحق ہو جاتے ہیں پانی سے پھیلنے والی بیماریاں: مون سون کے موسم میں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے می...

موسمِ گرما اور صحت

تصویر
  موسمِ گرما اور صحت ویسے تو موسمِ گرما 15 مارچ سے 15 ستمبر تک چلتا ہے مگر خصوصاً مئی سے آگست تک غیر معمولی حد تک درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ہمارے جسم پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جو کہ صحت کے مختلف مسائل کا سبب بن سکتے ہیں، جوکہ بعض اوقات جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ گرمی کیوجہ سے صحت کے متعلق کچھ مسائل درج ذیل ہیں: ڈی ہائیڈریشن: گرمی میں پسینے کی وجہ سے جسم سے نا صرف پانی کی کمی ہو سکتی ہے جسم میں نمکیات کی بھی کمی واقع ہو سکتی ہے جس سے تھکاوٹ، کمزوری، سر درد، گھبراہٹ اور چکر آنے کے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ پانی اور نمکیات کی کمی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ گرمیوں میں وافر مقدار میں پانی، نمکول، لیموں پانی، گڑ یا شکر کا شربت اور دیگر صحت مند مشروبات پیئے جائیں، تاکہ ممکنہ پانی کی کمی ڈی ہائیڈریشن کی صورت حال پیدا نا ہونے پائے۔ ہ یٹ اسٹروک: یہ ایک سنگین طبی حالت ہے اس وقت ہوتی ہے جب جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔ ہیٹ اسٹروک کے علامات میں تیز بخار، سر درد، متلی، اور الٹی شامل ہیں۔ اگر آپ کو ہیٹ اسٹروک کی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر سر کو ڈ...

رمضان المبارک اور ہماری صحت

تصویر
رمضان المبارک اور ہماری صحت ایک ایسا مہینہ جس میں ہم بطور مسلمان صبح صادق سے غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ روزہ رکھنا نا صرف روحانی بلکہ صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ کچھ فوائد جو روزہ رکھنے سے حاصل ہوتے ہیں: زیادہ وزن کا کنٹرول: زیادہ وزن کیوجہ سے پریشان افراد کیلئے رمضان المبارک اضافی نعمت کے طور پر ثابت ہوتا ہے کیونکہ کم و بیش 10 سے 12 گھنٹے تک خالی پیٹ رہنے (روزہ رکھنے) سے جسم میں موجود اضافی چربی پگھلنے لگ جاتی ہے اور وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، انسان نا صرف رمضان المبارک میں بلکہ باقی ایام میں بھی متوازن غذا اور بھوک رکھ کر کھانے کی عادت اپنا لے تو زیادہ وزن سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ کم وزن کو بڑھانا: زیادہ تر لوگ جن کا ہمیشہ شکوہ رہتا ہے کہ سب کچھ کھا لینے کے باوجود بھی ہمارا وزن کم رہتا ہے، بڑھنے کا نام ہی نہیں لیتا تو رمضان المبارک میں سحر و افطار میں اگر صحیح معنوں میں معتدل غذا کھا پی کر روزے گزارے جائیں تو چونکہ دن کا وقت روزے کی حالت ميں گزرتا ہے تو اس کی وجہ سے غیر معیاری اور صحت دشمن اشیا کھانے سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے جس کی وجہ اچھی غذا جزوِ بدن ہو کر انسان کو بہترین و ...

ایچ پائلوری

تصویر
ایچ پائلوری ایچ پائلوری ایک گرام نیگیٹو بیکٹیریا ہے جو معدے میں پایا جاتا ہے۔ یہ بیکٹیریا معدے کی سوزش کا باعث بنتا ہے۔ ایچ پائلوری کی علامات ایچ پائلوری پازیٹو ہونے کی وجہ سے پیٹ کی سوزش سمیت کئی علامات ہو سکتی ہیں، جیسا کہ:- سینے کی جلن متلی قے چڑچڑاپن پورے پیٹ میں یا پیٹ کے اوپر حصہ (معدہ کے مقام) میں درد معدہ کے مقام پر آر پار یعنی پیٹ سے کمر تک درد رات کو سوتے ہوئے رال کا ٹپکنا بھوک نہ لگنا کمزوری وزن کم ہونا خون کی قے کالے پاخانے: دو یا دو سے زیادہ بار (بالخصوص کالا) پاخانہ تشخیص:- ایچ پائلوری کے انفیکشن کی تشخیص خون کے ٹیسٹ، پاخانہ کے ٹیسٹ یا اینڈوسکوپی کے ذریعے بائیوپسی لینے سے کی جا سکتی ہے۔ ایچ پائلوری سے بچاؤ: - ایچ پائلوری سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:- اچھی طرح سے پکایا ہوا کھانا کھائیں۔ صاف ستھرا پانی پیئیں۔ اچھی طرح سے ہاتھ دھوئیں۔ اپنے دانتوں کو صاف رکھیں۔ فاسٹ فوڈ اور باسی کھانوں سے پرہیز۔ پیچیدگیاں :- ایچ پائلوری کے انفیکشن کا علاج کرنے سے پیٹ کی سوزش سمیت تمام مسائل کو دور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اگر وقت پر علاج نہیں کیا جاتا تو ...

کالی کھانسی

تصویر
 کالی کھانسی {Whooping Cough} کھانسی کی ایک ایسی قسم جس میں مریض کو بار بار کھانسی ہوتی ہے جوکہ بعد میں دورے کی سی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے، مریض کو جب اندر کی طرف لمبا سانس لینے کا کہا جائے تو سینے سے ایک خاص کی گڑگڑاہٹ قسم آواز آتی ہے جسے ہوپ "Whoop" کہا جاتا ہے، اسی لفظ "Whoop" کی وجہ سے اسے "Whooping Cough" کہا جاتا ہے۔ وجوہات:- موسم سرما کے آخر اور موسم بہار کے ابتداء میں عام نزلہ زکام اور کھانسی سے شروع ہونے والی  کھانسی آہستہ آہستہ کالی کھانسی (Whooping Cough) کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کھانسی 7 سے 17 دن تک ایک بیکٹیریل مرض کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس کی وجہ بارڈیٹیلا پریٹوسس "Bordetella pertussis" بیکٹیریا ہوتا ہے۔ یہ بیکٹیریا ایک مریض کے تھوکنے، کھانسنے اور چھینکنے کیوجہ سے ہوا میں پھیل کر دوسرے لوگوں خاص کر چھوٹے بچوں کو مرض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کالی کھانسی زیادہ تر 5 سال سے کم عمر بچوں میں خطرناک صورت اختیار کر جاتی ہے۔ اگر کالی کھانسی کا بروقت علاج نا کیا جائے تو نمونیا، پھیپھڑوں کا پھیل جانا، دماغی جھلیوں کی سوزش اور زیادہ الٹیاں ہو...

موسمِ سرما اور احتیاطی تدابیر

تصویر
 موسمِ سرما اور احتیاطی تدابیر  جیسے جیسے سردی کا موسم قریب آتا ہے، مردوں عورتوں خاص کر کھلی فضا میں کام کرنے والے اور ننھے منے پھول جیسے بچے زیادہ سردی لگنے سے مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ بچوں کا مدافعتی نظام اتنا مضبوط نہیں ہوتا، اس لیے وہ تھوڑی سی بد احتیاطی سے بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سردیوں میں ناک بہنا، زکام، کھانسی، بخار، سانس کا تیز چلنا عام علامات ہیں۔ ان سب پر مناسب توجہ سے آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ ان حالتوں میں زیادہ تر سانس کے نظام کا اوپر والا حصہ متاثر ہوتا ہے۔ یہ عموماً وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ سردی کیوجہ سے آب و ہوا میں نمی ہوتی ہے جس کی وجہ وائرس بہت جلد ایک سے دوسرے میں منتقل ہو جاتا ہے لیکن کوئی اور بیکٹیریا بھی انفیکشن کرسکتا ہے اور مناسب توجہ نا دینے کی وجہ سے نمونیہ اور ٹی بی جیسے موذی مرض بھی ہوسکتے ہیں جس سے بہت زیادہ مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں خاص کر بچے ان تمام مسائل کا بہت جلد شکار ہو جاتےہیں اس لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ احتیاطی تدابیر نظام تنفس کے اوپر کے حصہ کی بیماریاں جنہیں (URTI) بھی کہتے ہیں یا تو وائرس کی وج...

تمباکونوشی

تصویر
 (Nicotinism)  تمباکونوشی نکوٹزم طبی طور پر تمباکو استعمال کرنے کو کہتے ہیں۔ تمباکو نوشی انتہائی مضرِ صحت عمل ہے اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔ تمباکو نوشی زیادہ تر مندرج ذیل طریقوں سے کی جاتی ہے: سگار، سگریٹ اور حقہ وغیرہ کے ذریعہ ویسے ہی چبا کر یا پان، گٹکا وغیرہ کے ذریعہ سونگھنے کے ذریعہ تمباکو کا استعمال جس طرح بھی کیا جائے صحت کیلئے ہمیشہ مضر ہی ثابت ہوتا ہے کیونکہ تمباکو میں سے مختلف قسم کے (نکوٹین کولیڈین اور میتھائل الکوحل جیسے) کیمیکل کا اخراج ہوتا ہے جس کے استعمال سے "کاربن مونو آکسائیڈ" جیسی زہریلی چیز انسان اپنے جسم میں داخل کرتا ہے جو کہ بعد میں ایک خاموش قاتل ثابت ہوتا ہے۔  نقصانات :- بے پناہ نقصانات کی لسٹ میں سے چیدہ چیدہ نقصانات بیان کر دیتا ہوں۔ ہائی بلڈ پریشر پھیپھڑوں کے امراض حتٰی کہ کینسر دمہ اور الرجی جیسے مسائل نظر اور ذہنی کمزوری ہونٹوں، منہ، دانتوں، مسوڑھوں اور حلق کے امراض حتٰی کہ کینسر نظامِ ہاضمہ اور آلاتِ ہاضمہ کے امراض ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں تمباکونوشی سے مکمل طور چھٹکارا اور تمباکونوشی کے باعث ہونے والے تمام عوارض کا سدِباب ممکن ہ...